لندن،14؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)برطانوی پارلیمان (دارالعوام)کی پہلی اسکاٹش مسلم خاتون رکن تسمینہ احمد شیخ نے کہا ہے کہ داعش اسلام کے نمائندہ نہیں ہیں اور درحقیقت اسلام ہی داعش کا تریاق ہو سکتا ہے۔انھوں نے یہ بات العربیہ انگلش سے خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ'' ہمیں دنیا بھر میں یہ بات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ خواتین کو مل جل کر کام کرنے کا موقع ملے اور وہ اس مسئلے کا حل نکالیں کہ کون ان لوگوں (جنگجوؤں)کو اس طرح کی کارروائیوں پر اُکسا رہا ہے اور ان کارروائیوں کا یقیناً اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ان کا ایک منصوبہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں پارلیمانوں کی مسلم خواتین ارکان کی ایک سالانہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے تاکہ اچھی پالیسیوں کو روبہ عمل لانے کے لیے تبادلہ خیال کیا جا سکے۔نیز ہم غربت کے خاتمے کے لیے کیا کچھ کرسکتی ہیں اور ہمارا اسلام اور مسلم خواتین سے متعلق مختلف بیانیہ کیا ہے۔تسمینہ احمد شیخ نے کہا کہ میرے خیال میں دنیا بھر اور خاص طور پر مسلم دنیا میں خواتین کے لیے جگہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب ہم مذہب کے بارے میں گفتگو کررہی ہوتی ہیں تو ہمیں ایک اعتباریت کا احساس ہوتا ہے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ خواتین کو کیا پہننا چاہیے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ خود عورتوں کو کرنا چاہیے۔خواتین کو اس وقت جو حقوق حاصل ہیں ،اس کے لیے انھوں نے ایک طویل جنگ لڑی ہے اور ہمیں یہ جنگ جاری رکھنا ہوگی۔پاکستانی نژاد برطانوی شہری تسمینہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انھیں امریکی عوام پر اعتماد ہے اور امید ہے کہ وہ خطرناک غوغا آرائی کو ملحوظ رکھیں گے اور وہ صرف مسلمانوں کے بارے میں تندوتیز بیانات ہی کو پیش نظر رکھیں گے بلکہ اس رویّے کو امریکا میں جگہ نہیں دیں گے۔انھوں نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ میں نے سب سے پہلے وزیر داخلہ تھریسا مے (اب برطانیہ کی وزیراعظم)سے کہا تھا کہ ہمیں ان تندوتیز بیانات سے اسی طرح کا معاملہ کرنا چاہیے جیسا ہم نفرت پھیلانے والے دوسرے مبلغین سے کرتے ہیں۔انھوں نے یورپ میں دائیں بازو کی سیاست کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک چیلنج قرار دیا ہے اور کہا کہ ان ہی حالات سے بریگزٹ کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ''بدقسمتی سے برطانیہ کے عوام کے لیے یورپی ریفرینڈم تارکین وطن مخالف جذبات کے تناظر میں ہوا تھا۔ان کے بہ قول ملک میں اب ایک وزیر اعظم ایک ایسی پارٹی کی قیادت کررہی ہیں جو عالمی سطح پر زہریلے ٹوریوں کے نام سے جانی جاتی ہے اور وہ دائیں بازو کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔تسمینہ کا کہنا تھا کہ یہ برطانیہ اور دنیا میں اس کے مقام کے حق میں اچھا نہیں ہے۔ ہم اس طرح کی تمام غوغا آرائی کو چیلنج کریں گیکیونکہ ہم ایک ایسی دنیا کا حصہ بننا چاہتے ہیں جو ایک دوسرے کا خیرمقدم کرے۔